میزان MEEZAN
میزان
لفظ ’’ میزان ‘‘ کی
تشتریح سورة الرحمن کی آیت نمبر7 ‘ 8 اور9 کی روشنی میں۔
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ﴿٧﴾ سورة الرحمن
ترجمہ: اس نے آسمان کو بلند کیا اوراسی نے توازن رکھ دی۔
ترجمہ: اس نے آسمان کو بلند کیا اوراسی نے توازن رکھ دی۔
بے شک میزان کا ایک معنی
ترازو ہے لیکن اس آیت میں توازن و تناسب اور اعتدال کے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جب زمین کو بنایا اور آسمان کو بلند کیا تو اس کے ساتھ ہی
آسمان اور زمین کے درمیان کی ہر چیز میں عدل و انصاف کے سات توازن و تناسب اور
اعتدال قائم کردی اور اس نظام کائنات کو خوبصورتی عطا فرمائی۔
وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ ﴿١٩﴾ سورة الحجر
ترجمہ: اور زمین کو ہم نے (گولائی کے باوجود) پھیلا دیا اور ہم نے اس میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے اور ہم نے اس میں ہر جنس کو (مطلوبہ) توازن کے مطابق نشو و نما دی،
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ﴿٤٩﴾ سورة القمر
ترجمہ: بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرّرہ اندازے ) تناسب (کے مطابق بنایا ہے،
ترجمہ: بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرّرہ اندازے ) تناسب (کے مطابق بنایا ہے،
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ
الرَّحْمَـٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ
﴿٣﴾سورة الملك
ترجمہ: جس نے سات آسمان باہمی مطابقت کے ساتھ (طبق دَر طبق) پیدا فرمائے، تم رحمان کے نظامِ تخلیق میں کوئی بے ضابطگی اور عدمِ تناسب نہیں دیکھو گے، سو تم نگاہِ پھیر کر دیکھو، کیا تم اس (تخلیق) میں کوئی شگاف یا خلل دیکھتے ہو،
ترجمہ: جس نے سات آسمان باہمی مطابقت کے ساتھ (طبق دَر طبق) پیدا فرمائے، تم رحمان کے نظامِ تخلیق میں کوئی بے ضابطگی اور عدمِ تناسب نہیں دیکھو گے، سو تم نگاہِ پھیر کر دیکھو، کیا تم اس (تخلیق) میں کوئی شگاف یا خلل دیکھتے ہو،
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ
وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿٩٦﴾سورة
الأنعام
ترجمہ: وه صبح کا نکالنے واﻻ ہے اور اس نے رات کو راحت کی چیز بنا یا ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے۔ یہ ٹھہرائی بات ہے ایسی ذات کی جو کہ قادر ہے بڑے علم واﻻ ہے
ترجمہ: وه صبح کا نکالنے واﻻ ہے اور اس نے رات کو راحت کی چیز بنا یا ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے۔ یہ ٹھہرائی بات ہے ایسی ذات کی جو کہ قادر ہے بڑے علم واﻻ ہے
اسی طرح اور بھی بہت سی
آیتیں ہیں جو زمین اور آسمان کے درمان کی ہر تخلیق کی توازن و تناسب اور اعتدال پر
قائم رہنے کی تشریح ترتیں ہیں۔
لہذا سورہ رحمٰن کی آیت
نمبر 7 میں میزان ‘ توازن و تناسب اور اعتدال کے معنی میں استعمال ہوا
ہے۔
أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ﴿٨﴾
سورة الرحمن
ترجمہ:اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو
جب اللہ نے ہرچیز میں
عدل و انصاف کے ساتھ توازن و تناسب اور اعتدال قائم کردی ہے تو تم بھی اب اپنی بد
عملی اور بد دیانتی سے اس توازن و اعتدال کو ضائع نہ کرو اور ایک دوسرے کے حقوق کا
خیال رکھتے ہوئے معمولات زندگی کو حسین بناؤ۔
جس طرح اللہ نے پوری کائنات میں عدل و انصاف کے ساتھ توازن قائم کر رکھا ہے ‘ اسی طرح تمہارے ہاتھ میں میزان یعنی تراز و یا پیمانہ دے کر حق پر قائم رہنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ تم قرآن اور سنت کے مطابق نیکی کے پیمانے‘ سچائی کے پیمانے اور استدلال کے پیمانے سے کام لو اور دنیا میں انصاف قائم کرو اور احکام الٰہی نافذ کرو۔
جس طرح اللہ نے پوری کائنات میں عدل و انصاف کے ساتھ توازن قائم کر رکھا ہے ‘ اسی طرح تمہارے ہاتھ میں میزان یعنی تراز و یا پیمانہ دے کر حق پر قائم رہنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ تم قرآن اور سنت کے مطابق نیکی کے پیمانے‘ سچائی کے پیمانے اور استدلال کے پیمانے سے کام لو اور دنیا میں انصاف قائم کرو اور احکام الٰہی نافذ کرو۔
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ ﴿٩﴾
سورة الرحمن
ترجمہ: انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو
یعنی
اپنے تمام اقوال و افعال میں عدل و انصاف کو مد نظر رکھو۔.
(آیت
نمبر ۸ اور ۹ میں تراز و یا پیمانہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے نیکی کا
پیمانہ‘ سچائی کا پیمانہ‘ استدلال کا پیمانہ اور انصاف کا پیمانہ وغیرہ)
نوٹ
: آپ میری اس تشریح سے علمی بنیاد پر اختلاف کرسکتے ہیں اور یوں مجھے بھی سیکھنے
کا موقع ملےگا۔

Comments
Post a Comment